اہل البیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق داعش کے دہشت گردوں نے کل (سینچر 28 دسمبر 2013 کو) ریف حلب کے دیہاتوں تل سلورہ، جلمہ، دیر بلوط، دیوا اور ملا خلیل پر غلبہ پانے کے لئے متعلقہ پہاڑیوں پر قبضہ کرنے کے لئے حملہ کیا۔چندریس کے دیہی علاقے پر حملے میں داعش کے متعدد افراد عوامی دفاعی تنظیم کے کرد مجاہدین کے ہاتھوں مارے گئے؛ تا ہم مدافعین زیادہ تر ہالکین اور زخمیوں کو لے کر فرار ہونے میں کامیاب ہوئے صرف دو لاشیں رہ گئیں جن میں سے ایک لاش داعش کے سرغنے محمد عمر شیشانی کی تھی جبکہ دوسری لاش وسطی ایشیا کے ای دہشت گرد "ابو معاذ" کی تھی۔ باخبر ذرائع نے بتایا کہ عمر شیشانی عفرین کے کرد نشین شہر عفرین کے نواحی گاؤں تل سلورہ کے قریب کرد مدافعین کی گولیوں کی زد میں اکر ہلاک ہوگیا۔ عمر شیشانی چیچنیا میں القاعدہ کا سرغنہ تھا اور سینکڑوں افراد اس کی سرکردگی میں متحد تھے اور عمر اپنے ساتھیوں کے ہمراہ ترکی کی خفیہ ایجنسی کے توسط سے 2012 میں شام پہنچایا گیا تھا۔ ترک خفیہ ایجنسی چیچنیا اور مرکزي ایشیا سے دہشت گرد بھرتی کرکے انہيں شام کے شمالی علاقوں میں پہنچاتی ہے۔

عمر شیشانی ابتداء میں شام پہنچا تو جیش المہاجرین والانصار نامی دہشت گرد ٹولے سے جاملا جو جبہۃالنصرہ کا ذیلی گروپ تھا لیکن بعد ازاں وہ النصرہ سے جدا ہوا اور القاعدہ کی ذیلی تنظیم داعش میں شامل ہوا جو بجائے خود اس بات کا ثبوت ہے کہ جبہۃالنصرہ نامی تنظیم جو القاعدہ کی ذیلی تنظیم کے نام سے مشہور ہوئی ہے، درحقیقت اخوان المسلمین تعلق رکھتی ہے اور ترکی کی حکومت جو اخوانیت کی علمبردار ہے اس کی حمایت کرتی ہے جبکہ سعودی عرب داعش کی حمایت کرتا ہے اور ان دنوں شام میں داعش اور النصرہ کے درمیان مسلسل جھڑپیں ہورہی ہیں اور داعش چونکہ زيادہ مالی اور عسکری وسائل سے بہرہ مند ہے اسی لئے جبہۃالنصرہ اور فری سیرین آرمی کو ان سے مسلسل شکست کھانی پڑرہی ہے اور یہ جنگ درحقیقت آل سعود اور وہابیت کی جنگ ہے اخوان المسلمین کے خلاف۔ بہر صورت دوسرے محاذوں میں دہشت گرد ٹولوں کے ساتھ جنگ میں داعش کی کامیابیوں کے باوجود کرد علاقوں میں عوامی اتحاد کے خلاف انہیں مسلسل شکست کا سامنا ہے۔ وسطی ایشیا میں دہشت گردوں سے وابستہ ایک خبررسان گروپ نے کہا ہے کہ عمر الشیشانی 2000 افراد کا کمانڈر تھا اور اس کے گروپ میں وسطی ایشیا، ترکی، افغانستان اور پاکستان سے آئے ہوئے افراد شامل ہیں۔ دریں اثناء جبہۃالنصرہ کا چیف کمانڈر ابو سمیر بھی بم دھماکے میں ہلاک ہوگیا ہے لیکن اس حوالے سے کسی پر بھی الزام نہيں لگایا گیا ہے۔ تاہم کہا جاتا ہے کہ ایک بم دھماکے میں اس کی ہلاکت اس بات کا ثبوت ہے کہ جبہۃالنصرہ کے اندر بھی دراڑیں پڑ گئی ہیں اور اس کے متعدد افراد داعش کے لئے کام کرتے ہیں جبکہ داعش اعلانیہ طور پر النصرہ کے خلاف نبردآزما ہے۔ ................................/٭۔٭